انگلینڈ اور ویلز میں پولیس نے بچوں کی جانب سے ایک دوسرے کو نامناسب تصاویر بھیجنے اور انھیں مجرمانہ اقدام میں ملوث ہونے سے روکنے کے لیے نئے قوانین تیار کر لیے ہیں۔
ہوم آفس کے حالیہ قوانین کے مطابق ’سیکسٹنگ‘ کا کوئی واقعہ رپورٹ ہونے کی صورت میں اسے جرم کے طور پر درج کیا جائے گا۔
دی نیشنل پولیس چیف کونسل (این پی سی سی) اساتذہ کو بتائے گی کہ وہ کب اس قسم کے واقعات کو رپورٹ کر سکتے ہیں۔
بی بی سی کو اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ نئے اصول بنا لیے گئے ہیں لیکن وہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔
اپنے محبوب یا دوست کو سمارٹ فونز کے ذریعے نامناسب سلیفی بھیجنے کو ’سیکسٹنگ‘ کہا جاتا ہے۔
عام طور پر انگلینڈ اور ویلز میں 18 سال سے کم عمر کے کسی بھی فرد کی فحش تصاویر بنانا یا پھیلانا ایک جرم ہے، چاہے 18 سال سے کم عمر کے دو افراد آپس میں ہی کیوں نہ سکیسٹنک کر رہے ہوں۔
اگر نوجوانوں کے درمیان سیکسٹنگ کا کوئی بھی واقع پولیس میں رپورٹ ہوتا ہے تو مبینہ طور پر اس میں ملوث افراد کے ناموں کو پولیس کے نیشنل ڈیٹابیس میں دس سالوں کے لیے رکھا جا سکتا ہے چاہے ان پر کوئی فرد جرم بھی عائد نہ ہو تب بھی۔
سال 2015ء میں سن کے مطابق فریڈم آف انفارمیشن میں معلوم ہوا تھا کہ 18 سال سے کم عمر کے ایک ہزار بچوں سے پولیس نے سنہ 2012ء سے 2014ء کے درمیان سیکٹنگ کرنے کی تحقیقات کی تھیں۔
نئے قوانین کے مطابق والدین اور اساتذہ کو خود یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ انھیں کب ایسے کسی واقعے کو پولیس میں رپورٹ کرنا چاہیے۔ این پی سی سی کی ڈپٹی چیف کانسٹیبل اولیویا پینکنی کا کہنا ہے کہ ’ایسے واقعات ہر ایک صورتحال میں رپورٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘